
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ماسکو/تہران: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرتے ہوئے ملک کے سینئر سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روسی سفارتی ذرائع کے مطابق صدر پیوٹن نے اپنا تعزیتی پیغام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام ارسال کیا۔
روس کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ علی لاریجانی ایک تجربہ کار، مدبر اور دوراندیش سیاستدان تھے جنہوں نے نہ صرف ایران کے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا بلکہ ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
صدر پیوٹن نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ مرحوم رہنما کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور ان کی وفات دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس ایرانی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

روسی سفارتخانے کی جانب سے تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کو باضابطہ طور پر یہ پیغام پہنچایا گیا، جس میں مرحوم کے اہلِ خانہ اور قریبی عزیزوں کے لیے بھی دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعزیتی پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور ایران کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعاون میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دونوں ممالک حالیہ برسوں میں علاقائی اور عالمی معاملات پر ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، اور اس نوعیت کے سفارتی پیغامات کو اسی تعلق کی عکاسی سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ علی لاریجانی ایران کے اہم ترین سکیورٹی عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے اور ملک کی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران کے اندر اور بیرونِ ملک سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔



