امریکاایرانتازہ تریندفاعمشرق وسطی

ایران سے جنگ مہنگی پڑ گئی: ابتدائی 2 ہفتوں میں ہی امریکہ کے 4 ارب ڈالر کے جدید جنگی اثاثے تباہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تصادم نے جہاں خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، وہیں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو اس جنگ کی انتہائی بھاری معاشی قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔

حالیہ دفاعی تخمینوں اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اس جنگ کے پہلے صرف دو ہفتوں کے دوران امریکہ کو تقریباً 4 ارب ڈالر (4 بلین ڈالرز) مالیت کے جدید اور اہم ترین فوجی اثاثوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تباہ ہونے والے اہم امریکی اثاثے

عسکری ماہرین کے مطابق، اس مختصر عرصے میں امریکہ کے جو بڑے اور مہنگے دفاعی سسٹمز تباہ یا ناکارہ ہوئے ہیں، ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • تھاڈ (THAAD) ریڈارز: امریکہ کا یہ جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم، جو دشمن کے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے ریڈارز کو پہنچنے والا نقصان امریکہ کے لیے ایک بڑا سٹریٹجک دھچکا ہے۔
  • ایم کیو-9 ریپر ڈرونز (MQ-9 Reaper): دنیا کے خطرناک ترین اور مہنگے ترین ڈرونز میں شمار ہونے والے متعدد ایم کیو-9 ریپرز کو مار گرایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایک ریپر ڈرون کی مالیت کروڑوں ڈالر ہوتی ہے۔
  • لڑاکا طیارے (Fighter Jets): رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید امریکی لڑاکا طیاروں کو بھی اس تصادم کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے نقصانات کے حجم میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

نقصانات کی شدت اور عالمی اثرات

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے غیر متوقع دفاعی مزاحمت اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال امریکی افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 4 ارب ڈالر کا یہ نقصان محض ایک مالی خسارہ نہیں ہے، بلکہ یہ جدید جنگی ٹیکنالوجی اور فضائی برتری کے اس تصور پر بھی سوالیہ نشان ہے جو دہائیوں سے قائم تھا۔

اگر یہ تصادم مزید طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ امریکی معیشت اور عالمی دفاعی بجٹ پر بھی اس کا گہرا دباؤ پڑے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button