(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
دوحہ: قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون سے ایک اہم ٹیلیفونک رابطے کے دوران اختیار کیا۔
قطری خبر رساں ادارے کے مطابق اس گفتگو میں لبنان کی موجودہ صورتحال، جاری کشیدگی اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ امیر قطر نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
شیخ تمیم نے لبنان کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ قطر ہر مشکل وقت میں لبنان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر انسانی اور سفارتی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، چاہے وہ امدادی تعاون ہو یا کشیدگی کم کرنے کی کوششیں۔
گفتگو کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن کا مقصد موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔ امیر قطر نے واضح کیا کہ وہ ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو جنگ بندی، مذاکرات اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
ماہرین کے مطابق قطر کا یہ بیان خطے میں اس کے فعال سفارتی کردار کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی قطر مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی جانب سے لبنان کی کھل کر حمایت اور کشیدگی کم کرنے پر زور دینا اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے اور عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر قطر کی جانب سے دیا گیا پیغام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فوری، سنجیدہ اور مشترکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے، تاکہ مزید انسانی نقصان اور عدم استحکام سے بچا جا سکے۔