
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی حملے کے ممکنہ خدشات کے باوجود ایرانی حکام نے دن کے وقت کارروائی کو غیر متوقع قرار دیا تھا اور ہفتے کی صبح معمول کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چار ایرانی عہدیداروں نے بتایا کہ اگرچہ امریکہ کی تیاریوں کے اشارے موجود تھے، لیکن یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کسی بھی حملے کا امکان رات کے وقت زیادہ ہوگا، نہ کہ دن کی روشنی میں۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کی صبح ایران میں ورک ویک کا آغاز تھا، بچے اسکول جا رہے تھے اور لوگ دفاتر کا رخ کر رہے تھے۔ اسی دوران سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا گیا۔ ذرائع کے مطابق شرکاء نے زیرِ زمین بنکرز یا خفیہ مقامات پر منتقل ہونے کو ضروری نہیں سمجھا۔
اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے قریبی حلقے کو بتایا تھا کہ جنگ کی صورت میں وہ اپنی جگہ چھوڑنے کے بجائے وہیں رہنا پسند کریں گے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ تاریخ میں ایسے رہنما کے طور پر یاد نہیں ہونا چاہتے جو خطرے کے وقت روپوش ہو گیا ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اجلاس کے مقام سے کچھ فاصلے پر اپنے دفتر میں موجود تھے اور اجلاس ختم ہونے پر بریفنگ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تاہم اجلاس شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد میزائل حملہ ہوا۔
اس واقعے نے ایران کی سکیورٹی تیاریوں اور خطرے کے اندازے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دن کے وقت حملہ واقعی غیر متوقع تھا تو یہ انٹیلی جنس اور خطرے کے تجزیے میں ایک بڑی غلط فہمی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں معلومات محدود اور فیصلے تیزی سے کیے جاتے ہیں، اس لیے مکمل تصویر سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
اجلاس شروع ہوتے ہی میزائلوں کی بوچھاڑ
بدقسمتی سے، جیسے ہی یہ اہم اجلاس شروع ہوا، امریکی اور اسرائیلی میزائلوں نے عمارت کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ وہاں موجود قیادت کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انٹیلی جنس کی سطح پر ایران کی بڑی ناکامی تھی کہ وہ دشمن کی ‘ڈے ٹائم’ (دن کے وقت) حملے کی حکمتِ عملی کو بھانپ نہ سکے۔
سیاسی و عسکری اثرات
اس واقعے نے ایران میں نہ صرف ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے بلکہ تہران کی دفاعی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب جبکہ ایران میں ‘عبوری قیادت کونسل’ سرگرم ہے، عالمی دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا نئی قیادت بھی خامنہ ای کے اسی نقشِ قدم پر چلے گی یا مذاکرات کی کوئی نئی راہ تلاش کی جائے گی۔



