
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
قطر کی سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے اعلان کیا ہے کہ فوجی حملوں کے باعث راس لفان اور مسعید کے صنعتی علاقوں میں قائم تنصیبات پر اثرات کے بعد مائع قدرتی گیس (LNG) اور اس سے وابستہ مصنوعات کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے تک آپریشن معطل رہیں گے، جبکہ اسٹیک ہولڈرز کو صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا۔
قطر دنیا کی مجموعی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ برطانیہ کے لگ بھگ 40 فیصد گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بھی قطری گیس پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ایسے میں پیداوار کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تعطل طویل ہوا تو یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں خلیجی توانائی ڈھانچے کو بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں نے توانائی تنصیبات کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں رکاوٹ عالمی منڈیوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

ادھر برطانیہ اور یورپی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر متبادل سپلائی ذرائع کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ایرانی حکمتِ عملی اور عالمی مفادات پر ضرب
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی عسکری مہم جوئی کے جواب میں ایران اب ‘اسپرے اینڈ پرے’ (Spray and Pray) یعنی بلا تفریق حملوں کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ ایران کے اس جارحانہ انداز نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں اور توانائی کی تنصیبات کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔
- سمندری تجارت کی بندش: ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں پر حملوں کے بعد سمندری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
- قیمتوں میں اضافہ: توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قطر سے گیس کی ترسیل رکی، تو برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس سے کروڑوں گھرانے متاثر ہوں گے۔



