
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان Tamim bin Hamad Al Thani نے امریکی صدر Donald Trump کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے جاری فوجی تنازع کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں Iran، United States اور Israel کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
قطری امیر نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ فوجی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی اور سیاسی کوششوں کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ قطر بھی ان ممالک میں شامل ہے جو ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اس وقت خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہاں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے دوحہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قطری قیادت نے واضح کیا کہ اگرچہ ملک سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ، خلیجی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے خطے کے کئی ممالک بحران کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔



