
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلسل پانچ ہفتوں کی شدید امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی بڑی فوجی صلاحیت اب بھی برقرار ہے، جس سے جنگ کے جلد خاتمے کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
CNN کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اور بڑی تعداد میں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اب بھی فعال یا قابلِ استعمال حالت میں موجود ہیں۔ کچھ لانچرز زیر زمین یا ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں، لیکن مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے کروز میزائلوں کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے، جو Strait of Hormuz جیسے اہم عالمی بحری راستے میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔ تاہم انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دو سے تین ہفتوں میں جنگ کے خاتمے کی پیشگوئی "غیر حقیقی” ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو "بھاری نقصان” پہنچایا گیا ہے اور اس کی فوجی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ وزیر دفاع Pete Hegseth کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ابھی ایران کے باقی ماندہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا آغاز ہی کر رہا ہے، جس میں پل اور بجلی گھر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
ایران کی جانب سے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگ کو مزید پیچیدہ بنائے گا اور اس سے ایران کے عزم میں کمی نہیں آئے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ متضاد بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمینی حقیقت اور سیاسی بیانیہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی باقی ماندہ فوجی صلاحیت خطے میں طویل کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں اور توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ ابھی ختم ہونے سے دور ہے اور آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی کوششیں بھی سست روی کا شکار ہیں۔



