
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایران اپنی حکمت عملی کو وسعت دیتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ کو ریڈ سی (بحیرہ احمر) میں مزید فعال کردار دینے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی دباؤ بڑھنے کے بعد تہران کی قیادت اب اپنی اتحادی قوتوں کو متحرک کر کے جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں حوثیوں کو ریڈ سی میں جہازرانی کو نشانہ بنانے کی تیاری کا کہا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے حالیہ خطاب میں اشارہ دیا کہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، اور اگر حملے جاری رہے تو مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق گروپ کے اندر اس بات پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے کہ جنگ میں کس حد تک شامل ہونا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی گروپ نے ریڈ سی میں بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تو عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سب سے اہم تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے قبل بھی حوثیوں کے حملوں نے نہر سویز کے راستے کو متاثر کیا تھا، جس کے باعث کئی عالمی کمپنیوں نے اس راستے سے گریز کیا۔
توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ریڈ سی کے راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے تو تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو پہلے ہی جاری توانائی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور کسی بھی نئے محاذ کے کھلنے سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس امکان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ حوثیوں کی براہ راست شمولیت خطے میں جنگ کو مزید پھیلا سکتی ہے۔ تاہم بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی قیادت فی الحال مکمل تصادم سے گریز کرنا چاہتی ہے تاکہ خود کو بڑے حملوں سے بچا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں آئل ٹینکرز پر حملے، آبنائے ہرمز کی بندش اور مختلف ممالک میں میزائل حملوں نے خطے کو پہلے ہی غیر مستحکم کر رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے "غیر روایتی محاذ” کھولنے کی حکمت عملی کا مقصد اپنے مخالفین پر دباؤ بڑھانا ہے، لیکن اس کا نتیجہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع اب صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی تجارت، توانائی سپلائی اور بین الاقوامی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔



