خطے میں بڑھتی کشیدگی — عسکری مشقیں، سفارتی رابطے اور سخت بیانات

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ عسکری سرگرمیوں، میڈیا رپورٹس اور سفارتی رابطوں نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے، تاہم بعض علاقائی ممالک اب بھی تصادم کے بجائے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی بحری افواج نے بحرِ احمر میں مشترکہ فوجی مشقیں کیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ مشقیں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، جن کا مقصد خطے میں اتحادی ہم آہنگی اور فوجی تیاری کا پیغام دینا ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریف نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا سے واضح مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو ’’سرنڈر‘‘ پر مجبور کیا جائے، بصورتِ دیگر تباہ کن نتائج کی ذمہ داری تہران پر ہو گی۔ اسی اخبار کے مطابق اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا، اسرائیل کی مرضی کے بغیر ایران سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر سکتا، جو واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان حساس سفارتی توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
سفارتی سطح پر پیش رفت کے طور پر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ جیرڈ کوشنر کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی ہے، جہاں وہ خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے ہمراہ شریک تھے۔ مبصرین کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔
ادھر ایران کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی قیادت سے وابستہ بیان میں علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران اپنی یورینیم کی ذخیرہ اندوزی کو کسی صورت منتقل نہیں کرے گا اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ملک مکمل طور پر تیار ہے۔ اس بیان کو تہران کی دفاعی خودمختاری پر زور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایمن الصفدی نے عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی نازک صورتحال اور تناؤ کم کرنے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ فوجی تصادم سے۔ اردن نے واضح کیا کہ وہ نہ تو کسی علاقائی جنگ کا حصہ بنے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال ہونے دے گا۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایک طرف عسکری دباؤ اور سخت بیانات جاری ہیں، تو دوسری جانب کچھ علاقائی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کا رویہ اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



