
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی فوج کے اندر ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے مذہبی بیانیے کے استعمال پر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ بعض فوجی اہلکاروں نے شکایت کی ہے کہ کچھ کمانڈرز اس جنگ کو “خدا کے منصوبے” کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس پر فوجی حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
آزاد صحافی جوناتھن لارسن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی فوجی یونٹ کے کمانڈر نے غیر کمیشنڈ افسران کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ ایک “الٰہی منصوبے” کا حصہ ہے۔ مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یسوع مسیح کی جانب سے “مخصوص مشن” کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر فوجی مذہبی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم Military Religious Freedom Foundation (MRFF) کے پاس درجنوں شکایات درج کرائی گئی ہیں۔
تنظیم کے مطابق صرف 48 گھنٹوں کے دوران 30 سے زائد فوجی اڈوں سے 110 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ شکایت کرنے والوں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکار شامل ہیں، جن میں مسیحی، مسلمان اور یہودی بھی شامل ہیں۔ بیشتر اہلکاروں نے ممکنہ ردعمل کے خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

تنظیم کے سربراہ مکی وائن اسٹین کا کہنا ہے کہ بعض فوجی کمانڈرز جنگ کو مذہبی پیش گوئیوں اور بائبل میں بیان کردہ “آخری زمانے” کے واقعات سے جوڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ فوجی اہلکاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی باتیں فوجی نظم و ضبط اور آئینی اصولوں کے خلاف ہیں، کیونکہ امریکی فوج میں مذہبی غیر جانبداری ایک بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ دفاع میں مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں پینٹاگون میں بعض مذہبی پروگرامز اور بائبل اسٹڈی سیشنز میں اضافہ ہوا ہے، جسے کچھ مبصرین امریکی فوج میں مذہب کے بڑھتے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر پینٹاگون کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی ماحول میں اس طرح کے بیانات حساسیت پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ فوجی فیصلوں کو عموماً سیاسی اور عسکری حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ مذہبی تعبیرات کے تحت۔



