
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کی عمارت پر بمباری کی گئی ہے، تاہم ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ محفوظ ہیں۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اور امریکہ کے آج کے مشترکہ حملوں کا اصل ہدف ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان تھے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایران پر بمباری کے باقاعدہ مناظر بھی جاری کر دیے ہیں، جن میں تہران کے مختلف علاقوں سے آگ اور دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
اسرائیل: رہائشی عمارت پر میزائل کا حملہ
دوسری جانب ایران کے جوابی میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے ساحلی ضلع میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت متاثر ہوئی ہے۔ میزائل کا ایک ٹکڑا 20 ویں منزل سے ٹکراتا ہوا 17 ویں منزل تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔ فائر فائٹرز کی ٹیمیں متاثرہ عمارت میں ریسکیو آپریشن کر رہی ہیں تاکہ ملبے میں دبے ممکنہ افراد کو نکالا جا سکے۔ اگرچہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن خوش قسمتی سے وہاں آگ نہیں لگی۔

قطر: دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کے بعد دھواں
جنگ کے اثرات اب خلیجی ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں، جس کے بعد قطری حکام نے صورتحال کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دھواں میزائل حملوں کا نتیجہ ہے یا دفاعی نظام کے متحرک ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، تاہم پورے شہر میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
تجزیہ اور مستقبل کی صورتحال
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے براہِ راست ایرانی قیادت کو ہدف بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ آپریشن محض "احتیاطی” نہیں بلکہ "نظام کی تبدیلی” (Regime Change) کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خاموشی سے ہتھیار ڈالنے کے بجائے پورے خطے میں جنگ کا دائرہ پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔




محمد رضوان