
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں روس کو معاشی طور پر بڑا فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے روس کی توانائی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس سے ماسکو کی معیشت کو تقویت مل سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ایک مرحلے پر قیمتیں 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ چند برسوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روس دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے سے روسی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو روس کی سالانہ توانائی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اربوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کی تاثیر کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ اگر تیل کی عالمی قیمتیں زیادہ رہیں تو روسی تیل کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ماسکو کو مالی فائدہ پہنچے گا۔
اقتصادی مبصرین کے مطابق روس کی معیشت بڑی حد تک توانائی کی برآمدات پر انحصار کرتی ہے اور یہی آمدنی اس کے دفاعی اخراجات اور جنگی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو ماسکو کے لیے ایک غیر متوقع معاشی سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی میں اضافے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی جنگوں کے اثرات صرف سیاسی یا عسکری میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی منڈی، معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔



