
واشنگٹن/تہران — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر سخت ٹیرف اور معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین سے باز رہے، بصورتِ دیگر اسے امریکی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی دوران خطے میں عسکری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران نے سمندر میں 40 تیز رفتار حملہ آور کشتیاں تعینات کر دی ہیں، جبکہ امریکی بحری جہازوں کی نگرانی ڈرونز کے ذریعے مسلسل جاری ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار دی جرusalem پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں اسلامی جمہوریہ کے بعد کوئی نیا ایران وجود میں آتا ہے، جو پہلوی دور کے اصولوں پر مبنی ہو، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی سمت کو یکسر بدل سکتا ہے۔ مضمون کے مطابق ایسی صورت میں امریکا کا کردار محض وقتی دباؤ اور روک تھام (Deterrence) کی پالیسی سے آگے بڑھ کر خطے میں دیرپا اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ادھر یورپ سے بھی فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ برطانیہ کی رائل ایئر فورس کے نمبر ون گروپ کے چھ جدید F-35B لائٹننگ II جنگی طیارے آج انگلینڈ کے RAF مارہم اڈے سے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ فضاء میں ایندھن بھرنے والے وائجر KC2/3 ٹینکر طیارے بھی شامل تھے۔ یہ طیارے مشرقی بحیرۂ روم میں RAF اکروتیری کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، جسے خطے میں مغربی فوجی تیاریوں کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ حملوں میں تباہ ہونے والی بیلسٹک میزائل سائٹس کو تیزی سے بحال کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میزائل انفراسٹرکچر پر کام تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا، جبکہ دیگر حساس تنصیبات پر مرمت کا عمل محدود رہا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق فضائی طاقت بڑھانے کے لیے ایرانی فضائیہ کے سابق پائلٹس کو بھی دوبارہ فوج میں شامل کر لیا گیا ہے، جسے دفاعی تیاریوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر مبصرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں، فوجی نقل و حرکت اور دفاعی تیاریوں میں اس تیزی نے خطے کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے تعلقات ایک اہم موڑ پر پہنچ سکتے ہیں۔



