ایرانتازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ، سفارتی بیانات کے باوجود جنگ کے خدشات گہرے

:تازہ حالات رپورٹ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ بظاہر سفارتی رابطوں اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم دفاعی تیاریوں اور سخت مؤقف نے ممکنہ تصادم کے خدشات کو تقویت دی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جدید جنگی سازوسامان اور دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی میں تیزی آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس سے تناؤ میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے حوالے سے امریکی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایرانی میزائل پروگرام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کو قائل کیا ہے کہ ایران کے عسکری عزائم کو روکنا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب ایران کی قیادت واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور دباؤ کے باوجود مذاکرات کی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو خطہ ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس بیان کے ردعمل میں ایرانی رہنما علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

ادھر ایرانی حکام اور اسرائیلی ذرائع کے دعووں میں جانی نقصان کے اعداد و شمار کے حوالے سے بھی شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں ایران پر ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

سیاسی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ علی لاریجانی نے حماس قیادت سے ملاقات کی ہے جسے مبصرین خطے کی بدلتی ہوئی صف بندیوں کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے اپنے دو اہلکاروں کو مبینہ طور پر حساس معلومات غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جن پر جنگ سے متعلق معلومات لیک کر کے مالی فائدہ اٹھانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں اور عسکری تیاری بیک وقت جاری ہیں۔ اگرچہ فریقین کھلے عام جنگ سے گریز کی بات کرتے ہیں، لیکن بیانات اور اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کا کردار اس بحران کے رخ کا تعین کرنے میں کلیدی حیثیت رکھے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button