
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک بار پھر خطرناک زون بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یمن میں سرگرم حوثی گروہ، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے، نے 2023 کے آخر سے بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستوں پر حملے شروع کیے تھے۔ ان حملوں کا ہدف تجارتی اور فوجی جہاز بنے، خاص طور پر باب المندب کے قریب، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے، جس سے سامان کی ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔ بعض ماہرین اسے کورونا وبا کے بعد عالمی تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، لیکن سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی فراہمی نے وقتی طور پر عالمی منڈیوں کو سہارا دیا۔ تاہم اب یہی راستہ بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بحیرہ احمر میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی عالمی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثی گروہ جدید ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندری راستوں کا تحفظ مزید مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں بحری گشت اور سکیورٹی اقدامات بڑھا رہے ہیں تاکہ تجارتی جہازوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب کئی ممالک نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، کیونکہ بحیرہ احمر جیسے اہم راستے کی بندش عالمی معیشت کے لیے بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایران سے منسلک گروہوں کی کارروائیاں نہ رکیں تو آنے والے دنوں میں عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور خطے کی سکیورٹی مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔



