تازہ ترینمشرق وسطی

جنگ کے اثرات: مشرقِ وسطیٰ میں فضائی آلودگی اور ماحولیاتی خطرات میں اضافہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہے بلکہ ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان اور صحت کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگیں نہ صرف شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ہوا، پانی اور زمین کو بھی طویل مدت تک آلودہ کر دیتی ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں اور بمباری کے بعد خطے میں فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے جائزے سے معلوم ہوا کہ تہران اور اس کے اطراف میں تیل کے ذخائر اور ریفائنریوں پر حملوں کے بعد سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو عام حالات کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

سیٹلائٹ تصاویر میں تہران کی ایک ریفائنری کے اوپر تقریباً پانچ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا سیاہ دھوئیں کا بڑا بادل دیکھا گیا جبکہ دارالحکومت کے شمالی علاقے شہرَان کے اوپر بھی ایک اور دھوئیں کی تہہ نظر آئی۔ ماہرین کے مطابق سلفر ڈائی آکسائیڈ صنعتی آلودگی اور تیل کے جلنے سے پیدا ہونے والی ایک خطرناک گیس ہے جو سانس کی بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کی آلودگی خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور دمہ کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث سانس لینے میں دشواری، دمہ کے دوروں اور برونکائٹس جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی نگرانی کے اداروں کے مطابق حملوں کے بعد تہران اور البُرز کے علاقوں میں زمین کے قریب اوزون گیس کی سطح میں بھی تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ گیس اس وقت بنتی ہے جب دھوئیں اور جلنے سے نکلنے والے کیمیکل سورج کی روشنی کے ساتھ ردعمل کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف فضائی آلودگی تک محدود نہیں رہتے۔ لندن میں قائم کانفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کے مطابق فروری کے آخر سے خطے میں ماحولیاتی نقصان کے 300 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں صنعتی تنصیبات میں آگ لگنا، کیمیائی مواد کا اخراج اور پانی و مٹی کی آلودگی شامل ہیں۔

دوسری جانب سمندری ماحول بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حالیہ حملوں کے دوران خلیج میں کئی تیل بردار جہاز اور تجارتی بحری جہاز متاثر ہوئے جس سے تیل کے ممکنہ اخراج کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر تیل سمندر میں پھیل گیا تو اس سے سمندری حیات، ماہی گیری اور ساحلی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ پانی صاف کرنے والی تنصیبات اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس بھی خطرے میں ہیں۔ اندازوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 10 کروڑ افراد اپنی پانی کی ضروریات کے لیے انہی پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو آلودگی کے اثرات صرف فوری نہیں بلکہ طویل مدتی ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ زمین اور زیرِ زمین پانی میں شامل ہونے والے کیمیکل کئی سال تک باقی رہ سکتے ہیں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button