اسرائیلتازہ ترین

نیتن یاہو کہاں غائب؟ زیرِ زمین پناہ گاہوں کی افواہوں نے سوال کھڑے کر دیے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ وہ کسی محفوظ زیرِ زمین مقام پر موجود ہیں۔ ایک سابق مصری سفارتکار نے کہا ہے کہ ایسی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں کہ نیتن یاہو ممکنہ طور پر یروشلم میں کسی مضبوط بنکر میں پناہ لیے ہوئے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کے خلاف ممکنہ حملے کی افواہیں بھی پھیل رہی تھیں، تاہم بعد میں ان کی جانب سے سامنے آ کر ان خبروں کو مسترد کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں اس نوعیت کی خبریں عام ہوتی ہیں، خاص طور پر جب معلومات تک رسائی محدود ہو۔

سابق سفارتکار کے مطابق اسرائیلی قیادت ماضی میں بھی کشیدہ حالات کے دوران زیرِ زمین محفوظ مقامات پر اجلاس کرتی رہی ہے۔ 2023 میں بھی اسرائیلی حکومت کا ایک اہم اجلاس محفوظ بنکر میں منعقد کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامی حالات میں ایسے اقدامات معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کے دوران اسرائیل میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث زمینی صورتحال کی مکمل معلومات سامنے نہیں آ رہیں۔ تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت پر بھی پابندیوں نے ایک طرح کا معلوماتی خلا پیدا کر دیا ہے، جو افواہوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگی حالات میں افواہیں اور غلط معلومات ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، جن کا مقصد عوامی رائے پر اثر ڈالنا اور مخالف فریق پر نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایران میں بھی اطلاعات کے بہاؤ پر کنٹرول کے باعث متضاد خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

دفاعی مبصرین کے مطابق کسی بھی اہم سیاسی شخصیت کی غیر معمولی غیر موجودگی یا میڈیا سے دوری فوری طور پر قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر جب وہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو سے متعلق مختلف دعوے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ اطلاعات زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔ ان کے مطابق جنگی حالات میں درست معلومات تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، جس سے افواہوں اور حقیقت میں فرق کرنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button