
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے تیل کے بحران نے ایشیا میں توانائی کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روس اور چین خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے بعد Russia نے ایشیائی ممالک کے ساتھ توانائی کے نئے معاہدے تیزی سے شروع کر دیے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ان کا کردار عالمی معیشت میں مزید اہم ہو گیا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں Philippines نے روسی تیل کی بڑی کھیپ خریدنے کا اعلان کیا ہے، جو 2022 کے بعد پہلی بار ایسا اقدام ہے۔ اس کے علاوہ Indonesia، Thailand اور Vietnam جیسے ممالک بھی روسی تیل حاصل کرنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل تشویش صرف قیمتوں میں اضافے کی نہیں بلکہ سپلائی کی غیر یقینی صورتحال ہے، کیونکہ خلیج سے آنے والی توانائی کی ترسیل خطرے میں ہے۔ Strait of Hormuz میں کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے، جس سے ایشیائی ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔

اسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے China بھی توانائی کے نئے معاہدوں پر کام کر رہا ہے، تاکہ اپنی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی، جیسے Japan اور South Korea بھی اب روسی تیل خریدنے پر غور کر رہے ہیں، جو عالمی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Donald Trump کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی نے غیر ارادی طور پر ایشیا میں نئی توانائی سیاست کو جنم دیا ہے، جہاں روس اور چین اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں اور امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ بلکہ علاقائی سیاسی توازن بھی تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



