امریکاتازہ ترین

خلیجی بحران سے روس کو اربوں ڈالر کا فائدہ، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے آمدن بڑھ گئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس کا فائدہ روس کو بھی پہنچا ہے۔ اقتصادی تجزیوں کے مطابق عالمی قیمتوں میں اضافے سے روس کو مختصر مدت میں اربوں ڈالر کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق خلیج میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں Russia کی تیل سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں تقریباً 1.3 سے 1.9 ارب ڈالر تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی بنیادی طور پر خطے میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی سپلائی کے خدشات کی وجہ سے سامنے آئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں جنگی صورتحال اور خاص طور پر Strait of Hormuz کے حوالے سے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا تیل اسی آبی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی رکاوٹ کے خدشے سے قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے سے روس جیسے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو فوری مالی فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران کے دوران روسی حکومت کی ٹیکس آمدن میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے روس سمیت دیگر توانائی برآمد کرنے والے ممالک کو مزید مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلند قیمتیں نہ صرف عالمی تجارت بلکہ ایندھن، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے معاشی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button