امریکاتازہ ترین

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ابھی آغاز میں ہے، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیاں ابھی صرف ابتدائی مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ آپریشن مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اظہار ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کی تفصیلات پر بات کی۔

ہیگسیتھ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی طاقت ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ اور اسرائیلی دفاعی افواج کی فضائی طاقت دنیا کی طاقتور ترین فضائی قوتوں میں شمار ہوتی ہے، اور دونوں کے اشتراک سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں واضح برتری حاصل ہے۔

ایرانی بحریہ کو شدید نقصان

امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایران کی بحری صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بحریہ کی بڑی حد تک طاقت ختم ہو چکی ہے جس کے باعث ایران کی سمندری حدود میں طاقت کے اظہار کی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی افواج مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

ایران کو ہتھیار ڈالنے کا عندیہ

ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکہ اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نہیں نکالتا تو اسے بالآخر سخت فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انٹیلی جنس نگرانی جاری

امریکی وزیر دفاع کے مطابق امریکہ اس جنگ کے دوران تمام سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات کی نگرانی کر رہے ہیں کہ ایران دوسرے ممالک کے ساتھ کس نوعیت کے رابطے کر رہا ہے اور کون سے عوامل اس جنگ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس جدید ترین انٹیلی جنس نظام موجود ہے جو میدانِ جنگ کی صورتحال اور ممکنہ خطرات پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔

جنگ کے اثرات

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اسی لیے عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button