
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیل کے متنازع ڈیمونا جوہری ری ایکٹر کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جرمنی نے خفیہ طور پر اس منصوبے کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسرائیلی اخبار کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 1960 کی دہائی میں اسرائیل کے جوہری پروگرام کے لیے بڑی مالی امداد جرمنی کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1961 سے 1973 کے درمیان مغربی جرمنی کی حکومت نے ایک خفیہ مالیاتی طریقہ کار کے ذریعے ہر سال اسرائیل کو 140 سے 160 ملین جرمن مارک منتقل کیے۔ اندازوں کے مطابق مجموعی طور پر یہ رقم تقریباً دو ارب جرمن مارک بنتی ہے، جو آج کے حساب سے تقریباً پانچ ارب یورو (تقریباً 5.7 ارب ڈالر) کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقم بظاہر قرض کے طور پر دی گئی تھی، تاہم 1989 میں ایک معاہدے کے بعد اس قرض کی ادائیگی کی شرط ختم کر دی گئی اور یوں یہ عملی طور پر ایک گرانٹ میں تبدیل ہو گئی۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کے جوہری منصوبے کی بڑی مالی ذمہ داری اسرائیلی عوام کے بجائے جرمنی کے عوامی فنڈز سے پوری کی گئی۔

تاریخی طور پر اسرائیل کے جوہری پروگرام میں فرانس کے تعاون کا ذکر پہلے بھی سامنے آ چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1950 کی دہائی کے آخر میں اسرائیل اور فرانس کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث فرانس نے نیگیو صحرا میں جوہری ری ایکٹر کی تعمیر میں تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی قیادت، خصوصاً اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون، نے جرمنی کے ساتھ بھی خفیہ تعاون کو فروغ دیا۔ اس حوالے سے 1957 میں اسرائیلی دفاعی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار شمعون پیریز اور مغربی جرمنی کے وزیر دفاع کے درمیان ایک اہم خفیہ ملاقات بھی ہوئی تھی، جسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے آغاز کا اہم مرحلہ قرار دیا جاتا ہے۔
بعد ازاں 1960 میں نیویارک میں بن گوریون اور جرمن چانسلر کونراڈ ایڈینااور کی ملاقات کو بھی اسرائیل اور جرمنی کے تعلقات میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی ملاقات کے بعد اسرائیل کو خفیہ مالی امداد فراہم کرنے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی کی جانب سے دی جانے والی یہ مالی امداد بظاہر “نیگیو خطے کی ترقی” کے نام پر دی گئی، تاکہ اس کے اصل مقصد کو خفیہ رکھا جا سکے۔ اس فنڈنگ کو ایک سرکاری ترقیاتی بینک کے ذریعے قرض کی شکل میں منتقل کیا جاتا تھا تاکہ اس کے اصل استعمال کو پوشیدہ رکھا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس رپورٹ کے تمام دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کی تاریخ کا ایک اہم اور کم معروف پہلو ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سرد جنگ کے دور میں خطے کی سیاست، ہولوکاسٹ کی تاریخی یاد اور خفیہ سفارت کاری نے اسرائیل کے دفاعی منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔



