
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تقرر کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے شہر تل ابیب کی جانب نئی نسل کے میزائل داغے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کے وسطی علاقوں میں نئی فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران کی فوجی کارروائی “وعدۂ صادق 4” کے تحت کیا گیا، جس میں میزائلوں کی ایک نئی لہر اسرائیل کی جانب فائر کی گئی۔ اس دوران شمالی اسرائیل کے علاقوں، خصوصاً کریات شمونہ اور اس کے اطراف میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اسرائیل میں نقصان اور زخمی
اسرائیلی ہنگامی سروس کے مطابق تل ابیب کے قریب شہر ریشون لیسیون میں راکٹ کے ٹکڑے گرنے سے ایک خاتون زخمی ہو گئی، جس کی حالت درمیانی نوعیت کی بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہر میں ہونے والے نقصان کی وجہ کلسٹر بم نما میزائل تھے، نہ کہ دفاعی میزائلوں کے ملبے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں میں سے متعدد کو دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا، تاہم بعض میزائلوں کے ٹکڑے مختلف علاقوں میں گرے جس سے محدود نقصان ہوا۔

اسرائیل کی جوابی کارروائی
میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے ایران کے وسطی حصوں میں نئی فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی حکومت سے منسلک اہم فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تہران کے اندر پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی فوج کو بھی نقصان
ادھر امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی ابتدائی جوابی کارروائیوں میں زخمی ہونے والا ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد اس جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

نئی قیادت اور بڑھتی کشیدگی
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے باضابطہ طور پر ملک کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ ماہ ایران پر ہونے والے بڑے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ایران کے دشمنوں کو حملوں پر “پچھتانا پڑے گا”۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد خطے میں جاری جنگ مزید پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



