
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدید مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی بیانات اور مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب بڑے پیمانے پر فوجی حملے، جوہری خدشات اور عالمی طاقتوں کے سخت مؤقف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس ہفتے اسٹریٹجک اسلحہ کنٹرول معاہدہ نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہونے کے بعد روس بغیر جوہری پابندیوں کے نئے دور کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ میں مزید میزائل دفاعی نظام نصب کیے تو روس بھی اپنے خطے میں اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا۔ روسی حکام نے ایران سے متعلق امریکی تجاویز کو ’’حتمی انتباہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے یکطرفہ رویے نے عالمی اسٹریٹجک سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ اسلحہ کنٹرول مذاکرات میں فرانس اور برطانیہ کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

میدانِ جنگ میں روس نے یوکرین کے توانائی مراکز پر اب تک کا ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق 70 سے زائد میزائل اور 450 ڈرون داغے گئے، جن سے کئی شہر متاثر ہوئے اور کم از کم نو افراد زخمی ہوئے۔ حملوں میں رہائشی عمارتوں، بجلی کے نظام اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس مذاکرات کے بجائے دہشت پھیلانے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے، اس لیے اتحادی ممالک سے فوری طور پر فضائی دفاع اور سخت دباؤ کی ضرورت ہے۔
اسی دوران ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے کہ روس ڈرون آپریشنز میں اسٹارلنک ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقے تلاش کر رہا ہے، جس نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کی حمایت یافتہ اس منصوبے سے اتفاق کیا ہے جس کے تحت روس کی کسی بھی جنگ بندی خلاف ورزی کا عملی جواب دیا جائے گا۔ روس کی جانب سے عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ کیف اور دیگر شہروں پر حملے شروع ہو چکے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی فی الحال ناکام ہو چکی ہے اور لڑائی ایک بار پھر تیز ہو رہی ہے۔
امریکا کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان نئے مذاکرات ابوظہبی میں متوقع ہیں، جو بدھ اور جمعرات کو ہوں گے۔ یہ بات چیت پہلے یکم فروری کو طے تھی لیکن بعد میں ملتوی کر دی گئی۔ مذاکرات کا مقصد جنگ کی شدت کم کرنا اور کسی ممکنہ حل کی طرف پیش رفت کرنا بتایا جا رہا ہے۔

مغربی ممالک نے واضح کر دیا ہے کہ اگر روس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا جواب صرف سفارتی نہیں بلکہ عسکری بھی ہو گا۔ یہ مؤقف یوکرین کی حمایت اور روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو شدید مسائل کا سامنا ہے، جہاں میزائلوں کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حکام کے مطابق جہاں پہلے ایک حملہ روکنے کے لیے چھ میزائل دستیاب ہوتے تھے، اب صرف دو رہ گئے ہیں، جس سے دفاع کمزور پڑ رہا ہے۔
اسی دوران نیٹو کے سربراہ نے کیف کا دورہ کیا ہے، جب کہ روسی بمباری بدستور جاری ہے۔ اس دورے کو یوکرین کے لیے سیاسی اور عسکری حمایت کے ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر روس اور چین کی قربت بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ روسی سیکیورٹی عہدیدار سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ روس تائیوان کے معاملے پر چین کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ’’جنگل کے قانون‘‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب امریکی سیاست میں بھی دلچسپ بیانات سامنے آئے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ٹرمپ کی پالیسی چین کے مفادات کو منتخب انداز میں نشانہ بنا رہی ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی اسٹریٹجک سلامتی، جوہری توازن اور بڑی طاقتوں کے تعلقات پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مذاکرات اور فوجی فیصلے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔



