تازہ ترینعالمی خبریںیورپ امریکا

غزہ منصوبے پر اہم پیش رفت: اسرائیلی وزیر خارجہ ٹرمپ کی ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی پہلی باضابطہ نشست میں شریک ہوں گے

اسرائیلی حکام کے مطابق وزیر خارجہ Gideon Saar 19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والی امریکی صدر Donald Trump کی مجوزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ نشست میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کو غزہ جنگ کے خاتمے اور بعد از جنگ انتظامات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں، ساتھ ہی اقوام متحدہ کی منظوری سے ایک استحکام فورس (Stabilization Force) کی تفصیلات بھی سامنے آ سکتی ہیں، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم 20 ممالک کے وفود، جن میں بعض سربراہانِ مملکت بھی شامل ہیں، اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک—جیسے ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر—اس بورڈ کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم چند مغربی طاقتوں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

اجلاس کی توجہ بنیادی طور پر غزہ کی صورتحال پر مرکوز رہے گی، جہاں دو سالہ جنگ کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی پائی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق تعمیرِ نو، سکیورٹی انتظامات اور سیاسی عمل کی سمت پر اس نشست کے فیصلے خطے کی آئندہ سیاست پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی یہ نشست نہ صرف غزہ کی تعمیرِ نو کے خدوخال طے کرے گی بلکہ خطے میں مستقبل کی سکیورٹی اور سیاسی صف بندی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوشش پائیدار استحکام کی راہ ہموار کرتی ہے یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button