تازہ ترینرشیا یوکرین

روس کا برطانیہ پر حملہ ؟ خفیہ مشن پکڑا گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

لندن: برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے انکشاف کیا ہے کہ روس حالیہ مہینوں کے دوران برطانوی سمندری حدود کے قریب خفیہ آبدوز سرگرمیاں انجام دے رہا تھا، جس سے ملک کے اہم توانائی اور ڈیٹا کیبلز کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

حکام کے مطابق اس خفیہ آپریشن میں ایک جدید روسی “اکولا کلاس” حملہ آور آبدوز کے ساتھ دو دیگر خصوصی آبدوزیں بھی شامل تھیں، جو روس کے ڈیپ سی ریسرچ ادارے سے منسلک ہیں۔ یہ ادارہ سمندر کی گہرائیوں میں حساس مشنز کے لیے جانا جاتا ہے، جس کے باعث ان سرگرمیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کے مطابق جیسے ہی ان سرگرمیوں کا پتہ چلا، فوری طور پر رائل نیوی کا ایک جنگی جہاز اور رائل ایئر فورس کا پی-8 طیارہ تعینات کیا گیا تاکہ ان آبدوزوں کی نگرانی کی جا سکے۔ بعد ازاں ایک روسی آبدوز اس علاقے سے پیچھے ہٹ گئی، تاہم دیگر دو آبدوزیں اب بھی زیر نگرانی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق زیر سمندر کیبلز عالمی مواصلات اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں، اور ان پر کسی بھی قسم کا خطرہ نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سمندر کے اندر ہونے والی سرگرمیاں عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی خاموش کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جہاں حساس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ اس واقعے نے سمندری سکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button