ایرانتازہ ترین

سیٹلائٹ تصاویر: ایران کے پارچین فوجی کمپلیکس پر بڑے حملے کے آثار:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

تازہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پارچین (Parchin) فوجی کمپلیکس میں واقع تالقان-2 (Taleghan-2) تنصیب کو ایک بڑے فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ عسکری تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق تصاویر میں تین بڑے اور ایک قطار میں بنے گہرے گڑھے واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو کسی انتہائی طاقتور بنکر بسٹر بم کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حملے کے انداز اور گڑھوں کی ترتیب سے شبہ ہوتا ہے کہ امریکی B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے یہ کارروائی کی ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نوعیت کے اہداف کے لیے عموماً GBU-57 “میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر” (Massive Ordnance Penetrator) استعمال کیا جاتا ہے، جسے دنیا کے طاقتور ترین بنکر بسٹر بموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بم کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ ہوتا ہے اور اسے خاص طور پر گہرائی میں موجود مضبوط زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پارچین فوجی کمپلیکس ماضی میں ایران کے حساس دفاعی اور ممکنہ جوہری تحقیقاتی پروگرام سے منسلک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ مقام کئی برسوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بعض مغربی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہاں ماضی میں ایسے تجربات کیے گئے جو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تحقیق سے متعلق ہو سکتے تھے، تاہم ایران اس الزام کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والے تین گڑھوں کی سیدھی ترتیب سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حملہ انتہائی درستگی کے ساتھ کیا گیا، تاکہ زیر زمین بنائی گئی مضبوط تنصیبات کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔ اس طرح کے حملوں میں عام طور پر پہلے بم سے زمین کو کمزور کیا جاتا ہے اور پھر بعد میں گرائے جانے والے بم گہرائی تک داخل ہو کر زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرتے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے ابھی تک امریکی یا کسی سرکاری حکام کی جانب سے استعمال ہونے والے ہتھیار یا کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اسی طرح ایران نے بھی اس مخصوص حملے کی تفصیلات کے بارے میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر واقعی اس حملے میں GBU-57 جیسے بنکر بسٹر بم استعمال ہوئے ہیں تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملے کا اصل ہدف زمین کے اندر موجود مضبوط اور حساس فوجی ڈھانچے تھے۔

علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اس کے اثرات خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے سامنے آنے والی یہ معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جدید جنگ میں انٹیلی جنس، اسٹیلتھ طیاروں اور انتہائی طاقتور بنکر بسٹر ہتھیاروں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button