لیبیا میں خفیہ ہتھیاروں کا انکشاف، پابندی کے باوجود ڈرونز پہنچ گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لیبیا میں جاری سیاسی و عسکری تقسیم کے درمیان ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مشرقی لیبیا کے طاقتور کمانڈر خلیفہ حفتر کی افواج کے پاس جدید جنگی ڈرونز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، حالانکہ ملک پر اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پابندی بدستور نافذ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی تحقیقات کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ بن غازی کے قریب واقع الخدیم ایئربیس پر کم از کم تین جدید ڈرونز موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز ممکنہ طور پر چین اور ترکی میں تیار کیے گئے ہیں، جو جدید نگرانی اور حملہ آور صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرونز پہلی بار 2025 کے دوران مختلف اوقات میں ایئربیس پر دیکھے گئے، جبکہ ان کے ساتھ زمینی کنٹرول سسٹم سے متعلق گاڑیاں بھی موجود تھیں، جو ان کے آپریشنل ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کسی بھی میدان جنگ میں توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ لیبیا میں 2014 سے 2020 تک جاری خانہ جنگی کے دوران بھی ڈرونز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت حفتر کی زیر قیادت لیبین نیشنل آرمی نے طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔ اس تنازع میں مختلف عالمی طاقتوں نے بھی فریقین کی حمایت کی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے مبصرین کے مطابق لیبیا پر اسلحے کی پابندی کے باوجود مختلف ممالک کی جانب سے خفیہ طور پر عسکری امداد فراہم کیے جانے کے شواہد پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ہتھیاروں کی ترسیل مکمل طور پر نہیں روکی جا سکی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید ڈرونز کی موجودگی حفتر کی فوجی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب لیبیا میں سیاسی استحکام اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسلحے کی غیر قانونی فراہمی جاری رہی تو یہ نہ صرف لیبیا بلکہ پورے شمالی افریقہ میں سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے۔



