(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب نے ایشیا کے لیے اپنے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی آرامکو نے اپنے اہم "عرب لائٹ” خام تیل کی قیمت مئی کے لیے بڑھا کر علاقائی معیار سے تقریباً 19.50 ڈالر فی بیرل زیادہ کر دی ہے، جو ایک ریکارڈ سطح کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب غیر یقینی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر عالمی تیل سپلائی پر پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ مارکیٹ میں اس سے بھی زیادہ اضافے کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم موجودہ قیمتیں بھی توانائی مارکیٹ میں دباؤ کو واضح کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خریدار ممالک، خصوصاً ایشیا میں، بڑھتی قیمتوں کے باعث اضافی مالی دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایئرلائنز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے سفری اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے یا آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑیں گے۔
مجموعی طور پر سعودی عرب کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی مارکیٹ اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں ہے، جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگی براہ راست قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔



