
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکہ کی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد کے اضافی بجٹ کی منظوری طلب کر لی ہے، جسے موجودہ تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے ایک سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے درخواست کی ہے کہ اس خطیر رقم کو کانگریس سے منظور کروایا جائے تاکہ ایران کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رکھے جا سکیں۔
جنگی اخراجات میں تیزی سے اضافہ
ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے امریکی دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ فضائی حملے، بحری آپریشنز، میزائل دفاعی نظام اور خطے میں فوجی تعیناتی جیسے اقدامات انتہائی مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں نہ صرف موجودہ کارروائیوں کے اخراجات شامل ہوں گے بلکہ مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جائیں گے۔
کانگریس کی منظوری اہم مرحلہ
یہ بجٹ منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر سیاسی بحث متوقع ہے۔ بعض ارکان پہلے ہی طویل جنگی اخراجات اور امریکی عوام پر اس کے اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کا اثر
یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور فوجی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
عالمی اور معاشی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بجٹ منظور ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین پر دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
طویل جنگ کے اشارے
ماہرین کے مطابق اتنے بڑے بجٹ کی درخواست اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اس جنگ کو مختصر نہیں بلکہ طویل مدت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر سرگرمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کی پالیسی کا تعین کرے گا بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



