امریکاتازہ ترینشام عراق لبنان یمن

شام کے راستے یورپ تک ڈیٹا کوریڈور: مملکت کا خطے کا ڈیجیٹل نقشہ بدلنے کا بڑا فیصلہ

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مملکت نے یونان اور یورپ جانے والی ایک اہم ڈیٹا کیبل کو مقبوضہ فلسطین کے بجائے اردن اور شام کے زمینی راستے سے گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں مواصلاتی اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ٹیلی کام کمپنی (stc) شام میں ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ منصوبے کے تحت چار ہزار پانچ سو کلومیٹر سے زائد طویل فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جائے گا، جو مشرقِ وسطیٰ کو یورپی نیٹ ورکس سے زمینی راستے کے ذریعے جوڑے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نئے روٹ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ بحیرۂ احمر میں موجود زیرِ سمندر کیبلز کے رش اور ممکنہ خطرات سے بچاتا ہے، جس سے ڈیٹا کی ترسیل کی رفتار بہتر (کم لیٹنسی) اور نیٹ ورک کا استحکام زیادہ متوقع ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر تیز اور محفوظ کنیکٹیویٹی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔

یہ منصوبہ مبینہ طور پر "ایسٹ میڈیٹرینین کوریڈور” (EMC) کا حصہ ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کو یورپ سے براہِ راست اور جدید زمینی انفراسٹرکچر کے ذریعے جوڑنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مملکت کے اس ہدف کو تقویت مل سکتی ہے جس کے تحت وہ خود کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا ہوسٹنگ کے عالمی مرکز کے طور پر منوانا چاہتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ نیا راستہ ان سابقہ منصوبوں سے مختلف ہے جن میں اسرائیل کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اس پیش رفت کو خطے کی جغرافیائی سیاست اور مواصلاتی ترجیحات میں ایک نئی سمت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جبکہ شام کے انفراسٹرکچر کی بحالی میں ممکنہ کردار کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹیلی کمیونی کیشن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی معیشت، ڈیجیٹل خودمختاری اور بین الاقوامی ڈیٹا روٹس کے توازن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات کا انتظار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button