
ریاض/واشنگٹن: سعودی عرب کی جانب سے دفاعی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی کوششیں امریکا میں بے چینی کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاض جدید امریکی ایف-35 طیاروں کی خریداری پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
امریکی اور عرب حکام کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو گزشتہ برس وائٹ ہاؤس میں بھرپور پذیرائی ملی تھی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو جدید ایف-35 جنگی طیارے فروخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے ریاض سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ ترکی کے اگلی نسل کے ’کان‘ (Kaan) لڑاکا طیارہ پروگرام میں ممکنہ شمولیت کیوں چاہتا ہے۔
امریکا کی برتری برقرار رکھنے کی کوشش
ٹرمپ انتظامیہ ہتھیاروں کی برآمدات کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ خلیجی منڈی میں امریکا کو مرکزی سپلائر کی حیثیت حاصل رہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے بقول، واشنگٹن کا سوال یہ ہے کہ “ایسا کون سا دفاعی خلا ہے جو امریکا پورا نہیں کر رہا اور جس کے لیے سعودی عرب کو ترکی کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے؟”
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان کے جے ایف-17 طیارے خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم ترکی کے ’کان‘ پروگرام کے حوالے سے ایسی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
سعودی حکمتِ عملی: زیادہ انتخاب، زیادہ سودے بازی
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا مقصد امریکا کو بدلنا نہیں بلکہ اپنے لیے مزید آپشنز کھلے رکھنا ہے۔ ریاض کی ’ویژن 2030‘ پالیسی کے تحت ہدف یہ ہے کہ ملک کے دفاعی اخراجات کا کم از کم 50 فیصد مقامی پیداوار پر مشتمل ہو۔ ترکی سعودی عرب کو مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی پیشکش کر رہا ہے، جو امریکا کی نسبت زیادہ لچکدار سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب ماضی میں بھی روسی ایس-400 نظام میں دلچسپی ظاہر کر کے امریکا سے بہتر شرائط حاصل کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں ’کان‘ طیارے میں دلچسپی کو بھی ایک سفارتی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ایف-35 کے حوالے سے زیادہ بہتر شرائط طے کی جا سکیں۔
اسرائیل کا عنصر اور ایف-35 کا معاملہ
ایف-35 کی فروخت ہمیشہ اسرائیل کی ’’کوالٹیٹو ملٹری ایج‘‘ (QME) سے جڑی رہی ہے۔ اسرائیل خطے میں جدید امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر اثر انداز ہوتا آیا ہے تاکہ اس کی فوجی برتری برقرار رہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو ایف-35 کا ایسا ورژن مل سکتا ہے جو اسرائیل کے پاس موجود ماڈل سے کم جدید ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیل اس معاملے پر شدید ردعمل دیتا ہے تو سعودی ایف-35 معاہدہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہوا تھا۔
بدلتا ہوا مشرقِ وسطیٰ
سعودی عرب حالیہ برسوں میں ترکی، مصر، پاکستان اور قطر کے ساتھ دفاعی و سفارتی تعاون بڑھا رہا ہے، جبکہ خطے میں اتحادوں کی نئی صف بندیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاض اپنی معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک زیادہ خودمختار دفاعی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔

اگرچہ امریکی حکام کسی بڑے تصادم کی پیش گوئی نہیں کر رہے، لیکن یہ واضح ہے کہ خلیج میں اسلحہ کی منڈی اب صرف ایک طاقت کے زیرِ اثر نہیں رہی۔ آنے والے مہینوں میں یہ طے ہوگا کہ آیا سعودی عرب ایف-35 اور ’کان‘ دونوں منصوبوں کو بیک وقت آگے بڑھاتا ہے یا واشنگٹن کے دباؤ کے تحت کوئی ایک راستہ اختیار کرتا ہے۔



