تازہ ترینسعودی عرب

سعودی قیادت کی ایران کو تنبیہ، توانائی تنصیبات پر حملے ناقابل برداشت قرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ریاض — ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض بھی جوابی کارروائی پر مجبور ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے آگاہ متعدد ذرائع نے بتایا کہ سعودی قیادت نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب اس تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم اگر ایرانی حملے مملکت کی سرزمین یا تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں تو سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پیغام ایران کو سفارتی رابطوں کے ذریعے پہنچایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی بات چیت کی جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں خلیجی ممالک سے معذرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران نہیں چاہتا کہ موجودہ تنازع خطے کے دیگر ممالک تک پھیل جائے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی ناراضی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں سے ایک ہے، اس لیے اگر اس خطے میں حملوں کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سعودی عرب اس وقت ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک جانب وہ امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں براہِ راست جنگ کے پھیلاؤ سے بھی بچنا چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا کشیدگی کم ہوتی ہے یا خطہ مزید بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button