تازہ ترینسعودی عرب

سعودی عرب اور شام کے درمیان 5.3 ارب ڈالر کے معاہدے، بحالیٔ شام کی جانب اہم پیش رفت


سعودی عرب اور شام کے درمیان مختلف اہم شعبوں میں 5.3 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جن کا مقصد شام کی معاشی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سرمایہ کاری کے فروغ کو تیز کرنا ہے۔ شامی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ معاہدے ہفتے کے روز دمشق میں طے پائے۔

یہ معاہدے سعودی عرب اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کا حصہ ہیں، جن کی دستخطی تقریب پیپلز پیلس میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں شامی صدر احمد الشرع اور سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح شریک ہوئے۔

شام کی سرمایہ کاری اتھارٹی کے سربراہ طلال الهلالی کے مطابق یہ “اسٹریٹجک معاہدے” ایسے شعبوں میں کیے گئے ہیں جو براہِ راست عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، پانی، شہری ترقی، رئیل اسٹیٹ اور ہوابازی شامل ہیں۔

سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا کہ ریاض شام کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی بحالی، استحکام اور معاشی ترقی کے سفر میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے بڑے منصوبوں کے لیے ایلاف انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام اور دونوں ممالک کے درمیان بینکاری نظام کو فعال کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ان کے مطابق ایک بڑا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر منصوبہ “سلک لنک” بھی معاہدوں کا حصہ ہے، جسے شام کے لیے ڈیٹا کنیکٹیویٹی کا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے شعبے میں دنیا کے بڑے منصوبوں میں سے ایک معاہدہ سعودی کمپنی ACWA Power کی سرپرستی میں طے پانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

شام کے وزیرِ مواصلات عبدالسلام ہیکل نے کہا کہ شام اپنی جغرافیائی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے خود کو عالمی ڈیٹا ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھارنے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے، اور سلک لنک منصوبہ اس ہدف کو مضبوط بنائے گا۔

ادھر شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ عمر الحصری نے اعلان کیا کہ حلب انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ترقی اور آپریشن، اور ایک نئی کم لاگت قومی ایئرلائن “ناس شام” کے قیام کے لیے بھی معاہدے طے پا گئے ہیں، جس سے شام کی بین الاقوامی فضائی نیٹ ورک میں واپسی متوقع ہے۔

ان معاہدوں میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، ڈیٹا سینٹرز کے قیام، پانی کی فراہمی اور نمکین پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے پلیٹ فارمز کی بہتری اور کیبل انڈسٹری کی ترقی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے ترقیاتی اداروں کے درمیان 45 مشترکہ منصوبوں کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ان تازہ معاہدوں کے بعد شام میں مجموعی سعودی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 60 ارب سعودی ریال (تقریباً 16 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف شام کی تعمیرِ نو کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے معاشی و سفارتی کردار کی بھی عکاس ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button