
سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں حالیہ پیش رفت کو دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اہم دورہ نہ صرف سیاسی ہم آہنگی بلکہ معاشی اور دفاعی تعاون کو نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔
معاشی اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی معیشت کا حجم تقریباً 1.36 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ ترکی کی معیشت 1.57 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم اس وقت تقریباً 8 ارب ڈالر ہے، جس میں آئندہ برسوں کے دوران اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں اس وقت 20 ہزار سے زائد ترک شہری مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ترکی کو فوجی صنعت کے میدان میں دنیا کے اہم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ترک دفاعی صنعت کا حجم 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور اس شعبے میں ترکی نے نمایاں خودکفالت حاصل کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں تقریباً 3,500 دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ مقامی پیداوار کا تناسب تقریباً 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ یہ صلاحیت ترکی کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک مضبوط شراکت دار بناتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی دفاعی صنعت کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ مملکت میں اس وقت فوجی صنعت میں مقامی پیداوار کا تناسب 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس شعبے سے وابستہ 340 سے زائد صنعتی ادارے سرگرم عمل ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق 2027 کے اختتام تک دفاعی صنعت میں متوقع سرمایہ کاری 47 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کا مقصد ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ برآمدی صلاحیت کو بھی فروغ دینا ہے۔

سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت نے دفاعی صنعت میں 50 فیصد تک لوکلائزیشن کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس کے لیے ترکی کے ساتھ صنعتی اور تکنیکی تعاون کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مشترکہ منصوبے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پیداواری شراکت داری آئندہ برسوں میں سعودی-ترک تعلقات کا مرکزی محور بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان صنعتی اور دفاعی تعاون مستقبل میں نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ خطے میں اسٹریٹجک توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔



