ایرانتازہ ترین

ایران میں اسکول پر حملہ: 160 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ، امریکہ نے جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر مبینہ فضائی حملے کے بعد 160 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ ہفتے کے روز ہوا اور اسے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ حملہ امریکی کارروائی کا حصہ تھا تو محکمہ دفاع اس کی تحقیقات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “تعلیمی ادارے یا کسی بھی شہری تنصیب کو دانستہ نشانہ بنانا امریکی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔”

پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر تفصیلی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی حکام نے کہا ہے کہ شہری نقصان کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثقافتی و تعلیمی ایجنسی یونیسکو اور نوبیل امن انعام یافتہ تعلیمی کارکن ملالہ یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ انہیں ایران سے موصول ہونے والی رپورٹس کا علم ہے، تاہم تفصیلات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے بھی کہا کہ مختلف متضاد رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، جن میں بعض اطلاعات میں حملے کا الزام ایرانی پاسدارانِ انقلاب پر بھی عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ ہفتے کے روز تہران پر حملوں سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسکول پر حملے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ تنازع کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ ہوگا، جس کے سفارتی اور قانونی اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button