
ایران نے جنگ بندی کی شرائط رکھ دی ؟
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم شرط سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل مستقبل میں حملے نہ کرنے کی واضح ضمانت دیں تو وہ جنگ بندی پر غور کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کے خاتمے کے لیے قابلِ اعتماد عالمی ضمانتیں ضروری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق Iran کے حکام نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ تہران کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ موجودہ جنگ ختم ہونے کے بعد Israel دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں مستقبل کی سکیورٹی ضمانتوں کو لازمی قرار دے رہا ہے۔
ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ایران کے "قانونی حقوق” کو تسلیم کرنا، جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور مستقبل میں حملوں کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مسئلے پر انہوں نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں جن میں Russia اور Pakistan کے رہنما بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں Islamic Revolutionary Guard Corps کے انفراسٹرکچر اور ڈرون لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جبکہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی Hezbollah سے متعلق اہداف پر حملے کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کی کسی بھی کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے علاقائی اور عالمی طاقتوں کی سفارتی کوششیں اہم ہوں گی۔ تاہم زمینی حالات اور جاری فوجی کارروائیوں کے باعث فوری طور پر کسی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں دکھائی دیتا۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی کے لیے قابلِ قبول ضمانتیں فراہم نہ کی گئیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے۔



