امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کا یورینیم قبضے میں لینے کا خفیہ منصوبہ سامنے آگیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن: ایران کے جوہری مواد کو قبضے میں لینے کے لیے امریکی فوج کی جانب سے ایک انتہائی خفیہ اور پرخطر منصوبہ تیار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جسے مبینہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ترتیب دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے اندر زمینی افواج بھیجنے، زیرِ زمین تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے اور وہاں موجود افزودہ یورینیم کو نکال کر محفوظ مقام تک منتقل کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگی حالات میں اپنی نوعیت کی انتہائی پیچیدہ اور خطرناک مہم ہو سکتی ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس آپریشن کے لیے بھاری مشینری، خصوصی انجینئرنگ ٹیمیں اور کارگو طیاروں کے لیے عارضی رن وے کی تعمیر بھی درکار ہوگی، تاکہ حساس مواد کو فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مشن میں امریکی فوجیوں کو شدید مزاحمت اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے مرکزی علاقوں میں واقع جوہری تنصیبات، خصوصاً زیرِ زمین بنکرز اور سرنگوں میں موجود مواد تک پہنچنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ اس کے لیے نہ صرف عسکری مہارت بلکہ انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات بھی ضروری ہوں گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کا آپریشن اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں جنگ کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں براہ راست زمینی تصادم، علاقائی کشیدگی میں اضافہ اور عالمی سطح پر ردعمل کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس طرح کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کے حوالے سے بھی متنازع ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے غیر متوقع نتائج عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

فی الحال اس منصوبے کے عملی نفاذ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم اس کے انکشاف نے واضح کر دیا ہے کہ ایران جنگ کے تناظر میں امریکی حکمت عملی مزید جارحانہ رخ اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button