
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے دعوؤں کے بعد اسرائیلی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف اخبارات اور تجزیہ نگار اس مبینہ کارروائی کو اسرائیلی انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیتوں کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے متعدد تفصیلات تاحال سرکاری سطح پر واضح نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی اخبار معاریو کے سینئر صحافی بین کسپِٹ نے اپنے کالم میں لکھا کہ جب اس آپریشن کی مکمل تفصیلات سامنے آئیں گی تو وہ “ذہنوں کو حیران کر دیں گی”۔ ان کے مطابق کارروائی میں دھوکہ دہی کی حکمت عملی، انٹیلی جنس معلومات کی درستگی اور عملدرآمد کی رفتار غیر معمولی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کی تفصیلات آئندہ برسوں میں فوجی اکیڈمیوں میں بطور کیس اسٹڈی زیرِ بحث آ سکتی ہیں۔

اسی اخبار کے ایک اور تجزیہ نگار ایوی اشکنازی نے ایک سینیئر ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ یہ اسرائیلی فضائیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ ہو سکتا ہے، جس میں امریکی افواج کے ساتھ قریبی ہم آہنگی بھی شامل تھی۔ ان کے مطابق کارروائی کے دوران تہران کے مختلف مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔
یدیعوت احرونوت کے نامہ نگار اتمار آئخنر نے لکھا کہ اس مبینہ آپریشن کے لیے مہینوں تک انٹیلی جنس تیاری کی گئی اور یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایران کو رات کے حملے کی توقع ہو گی، اس لیے صبح کے وقت کارروائی کر کے حیرت کا عنصر برقرار رکھا گیا۔

اسرائیلی میڈیا میں اس پیش رفت کو خطے کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ نگار اسے طاقت اور ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عسکری برتری کے باوجود زمینی حقائق اور عوامی ردعمل خطے کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ واقعہ نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔



