
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج فارس میں جاری کشیدگی کے دوران جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں سگنل جامنگ میں کمی کے باعث سمندر میں موجود جہازوں کی درست پوزیشن دوبارہ واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے شپنگ انڈسٹری میں پائی جانے والی بے یقینی میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں الیکٹرانک مداخلت یا سگنل جامنگ کی وجہ سے جہازوں کے مقام کا درست تعین مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث شپ مالکان اور آپریٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ بعض کیسز میں جہازوں کی لوکیشن غلط ظاہر ہو رہی تھی یا مکمل طور پر غائب ہو جاتی تھی، جس سے حادثات اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔
اب مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے مطابق خلیج میں اس قسم کی مداخلت میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں جہازوں کے نیویگیشن سسٹمز بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور خاص طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف اب بھی صورتحال حساس ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سگنل جامنگ نہ صرف جہازوں کی سمت اور رفتار کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے قانونی اور انشورنس مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ شپ مالکان کے لیے اپنی فلیٹ کی درست نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی حادثے یا حملے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، جہاں روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر نیویگیشن سسٹمز متاثر ہوں تو اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
ادھر شپنگ کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جدید ٹریکنگ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھائیں اور کسی بھی غیر معمولی سگنل یا خلل کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ بہتری حوصلہ افزا ہے، لیکن خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر خطرات بدستور موجود ہیں۔



