تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

خلائی دوڑ تیز، ناسا کا چاند پر مستقل موجودگی کا نیا منصوبہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر انسانی واپسی کے منصوبے کو نئی رفتار دینے کے لیے آرٹیمس پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں اور دسمبر میں عہدہ سنبھالا، نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنے بلکہ مستقبل میں مریخ مشنز کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی اہم ہوگا۔

ناساکے مطابق نئے منصوبے کے تحت چاند پر مزید روبوٹک لینڈرز بھیجے جائیں گے، ڈرونز کا ایک مکمل نیٹ ورک قائم کیا جائے گا اور آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر نیوکلیئر توانائی کے استعمال کی تیاری کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات چاند پر طویل مدتی انسانی قیام کو ممکن بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہیں۔

جیرڈ آئزک مین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مرحلہ وار حکمت عملی ناسا کے ماضی کے کامیاب اپالو مشن کی طرز پر ترتیب دی گئی ہے، جس کے ذریعے خطرات کو کم کرتے ہوئے اعتماد اور تکنیکی مہارت میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہی طریقہ کار امریکا کو ایک بار پھر خلائی دوڑ میں برتری دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان چاند تک رسائی کی نئی دوڑ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق چین 2030 کے آس پاس اپنے خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کے پیش نظر امریکا اپنی حکمت عملی کو تیز اور مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چاند پر نیوکلیئر توانائی کا استعمال ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف توانائی کی مسلسل فراہمی ممکن ہوگی بلکہ طویل المدتی سائنسی مشنز اور انسانی قیام کو بھی سہارا ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور خودکار نظام چاند کی سطح پر تحقیق اور وسائل کی تلاش کو مزید آسان بنائیں گے۔

دفاعی اور سائنسی حلقوں کا ماننا ہے کہ آرٹیمس پروگرام صرف سائنسی مشن نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک اقدام بھی ہے، جس کے ذریعے امریکا خلا میں اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مستقبل میں اسی پروگرام کے تحت مریخ کے لیے نیوکلیئر توانائی سے چلنے والے مشنز کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔

موجودہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلائی تحقیق ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عالمی طاقتیں نہ صرف زمین بلکہ خلا میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button