(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس ممکنہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی او (IPO) کی تیاری کر رہی ہے، جس کی متوقع مالیت 1.75 ٹریلین ڈالر تک بتائی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ پوری عالمی مالیاتی مارکیٹ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس 2026 میں پبلک ہونے کی تیاری کر رہی ہے، اور اس کے لیے خفیہ طور پر فائلنگ بھی متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی کی یہ قدر اسے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں شامل کر سکتی ہے، جو کہ ایک غیر معمولی سنگ میل ہوگا۔
کمپنی کی تیز رفتار ترقی اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جا رہی ہے۔ اسپیس ایکس نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ اسپیس لانچ کمپنی بن چکی ہے بلکہ اس کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ پروجیکٹ “اسٹارلنک” اس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے، جو مجموعی ریونیو کا 50 سے 80 فیصد تک حصہ فراہم کر رہا ہے۔

تاہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ قدر حقیقت پر مبنی ہے یا مستقبل کی توقعات پر؟ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی کو اس سطح کی ویلیو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی ترقی دکھانا ہوگی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
مزید برآں، اسپیس ایکس کی حکمت عملی صرف راکٹ لانچز تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ مصنوعی ذہانت (AI)، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور حتیٰ کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز بنانے جیسے بڑے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایلون مسک کی AI کمپنی xAI کے ساتھ انضمام نے بھی کمپنی کی مجموعی قدر اور مستقبل کی سمت کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ آئی پی او سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ اتنی بڑی ویلیو پر کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا اسپیس ایکس اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
اگر یہ آئی پی او کامیاب ہوتا ہے تو 2026 ٹیکنالوجی اور اسپیس انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی سال بن سکتا ہے، جہاں نجی خلائی کمپنیوں کی طاقت اور اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔



