(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
میڈرڈ/تہران: اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کو بحال کرنا اور امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کا حامی ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہ براہ راست سفارتی رابطوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف سیاسی گفتگو کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
یورپی ممالک حالیہ بحران کے دوران عمومی طور پر سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ اسپین کا یہ قدم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام فوری طور پر بڑے نتائج نہیں دے سکتا، تاہم طویل مدت میں یہ مذاکرات کے دروازے کھولنے اور خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر اسپین کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں موجودہ صورتحال میں فوجی کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔