
ویب ڈیسک | 3 فروری 2026
دبئی/لندن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کی نظریں "آبنائے ہرمز” پر مرکوز کر دی ہیں۔ یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جس کے دبنے سے دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ مزید بڑھا تو اس کا خمیازہ صرف خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔
آبنائے ہرمز: تیل اور گیس کا عالمی دروازہ
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے اعدادوشمار کے مطابق، 2024 اور 2025 کی پہلی سہ ماہی میں دنیا بھر میں سمندر کے راستے ہونے والی تیل کی کل تجارت کا چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرا۔
- روزانہ کی آمدورفت: انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق یہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ (20 ملین) بیرل تیل گزرتا ہے۔
- گیس کی سپلائی: دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی 20 فیصد تجارت اسی راستے پر منحصر ہے۔

سب سے زیادہ نقصان میں کون رہے گا؟ (The Losers)
اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے یا یہاں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے، تو نقصان سب کا برابر نہیں ہوگا بلکہ کچھ ممالک اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔
1. ایشیائی ممالک (چین، بھارت، جاپان) رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا 84 فیصد اور گیس کا 83 فیصد حصہ ایشیائی منڈیوں میں جاتا ہے۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی صنعتوں کا پہیہ اسی تیل سے چلتا ہے۔ سپلائی رکنے کا مطلب ان ممالک میں شدید مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ ہوگا۔
2. ترقی پذیر اور غریب ممالک وہ ممالک جن کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، ان کے لیے یہ صورتحال "کرے گا یا مرے گا” جیسی ہوگی۔ تیل مہنگا ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء، ٹرانسپورٹ اور بجلی مہنگی ہو جائے گی، جس سے ان ممالک میں سماجی بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
3. خلیجی ریاستیں اگرچہ خلیجی ممالک تیل بیچتے ہیں، لیکن جنگ کی صورت میں انہیں بھی نقصان ہوگا۔ خوراک کی درآمدات مہنگی ہو جائیں گی، اور سمندری انشورنس (Insurance) کے اخراجات بڑھنے سے ان کی سپلائی چین متاثر ہوگی۔

فائدہ کس کو ہوگا؟ (The Winners)
جنگ اور بحران جہاں تباہی لاتے ہیں، وہیں کچھ مخصوص شعبوں کے لیے منافع کا باعث بھی بنتے ہیں:
- غیر خلیجی تیل پیدا کرنے والے: امریکہ، بحیرہ شمالی (North Sea) اور مغربی افریقہ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو فائدہ ہوگا کیونکہ خریدار مشرق وسطیٰ کے بجائے ان محفوظ علاقوں کا رخ کریں گے۔
- دفاعی کمپنیاں: جنگی خطرات بڑھنے سے بحری نگرانی، فضائی دفاع اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص اور منافع میں اضافہ ہوگا۔
- شپنگ اور ٹریڈنگ کمپنیاں: خطرات کے باوجود جو کمپنیاں تیل لانے کا رسک لیں گی، وہ منہ مانگے دام وصول کریں گی۔
خوراک اور کھاد کا بحران (Food Security Crisis)
خطرناک بات یہ ہے کہ یہ بحران صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسانوں کے کھیتوں تک پہنچے گا۔ کھاد (Fertilizers) کی تیاری میں گیس کا اہم کردار ہے، اور جب گیس مہنگی ہوگی تو یوریا اور دیگر کھادوں کی قیمتیں بڑھیں گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2025 میں کھاد کی قیمتیں پہلے ہی 20 فیصد بڑھ چکی ہیں، مزید اضافے سے دنیا میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور مارکیٹ کا ردعمل
مارکیٹ کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2 فروری 2026 کو جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہا کہ "ایران سنجیدگی سے بات کر رہا ہے”، تو تیل کی قیمتوں میں فوراً 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔ لیکن ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ یہ سکون عارضی ہو سکتا ہے، اور ایک چھوٹی سی چنگاری دوبارہ قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتی ہے۔

تجزیہ: اگر آبنائے ہرمز میں خلل پڑتا ہے تو مرکزی بینکوں کو مہنگائی روکنے کے لیے شرح سود بڑھانی پڑے گی، جس سے عالمی معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔



