
جنگی جہاز سمندر کی تہہ میں بھیجے جا سکتے ہیں
تہران:(تازہ حالات رپورٹ ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کی حالیہ فوجی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور اپنی پوزیشن پر قائم رہے گا۔
مشرقی آذربائیجان صوبے سے آئے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگرچہ امریکا خود کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج قرار دیتا ہے، لیکن “دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی ایسا دھچکا کھا سکتی ہے کہ دوبارہ سنبھل نہ سکے۔”
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ “طیارہ بردار جہاز بلاشبہ خطرناک ہتھیار ہے، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے،” خامنہ ای نے خبردار کیا۔
کشیدگی کے سائے میں بیان
ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، جبکہ دوسری جانب جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر تہران کی جانب سے سخت ردعمل آ رہا ہے۔

خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملکی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
عوامی اجتماع اور نعرے بازی
تقریب کے دوران شرکا کی جانب سے پرجوش نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ سرکاری میڈیا نے اس اجتماع کو “امریکا کے نام کھلا پیغام” قرار دیا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی فوجی مہم جوئی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

آگے کیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان نہ صرف داخلی سطح پر حوصلہ افزائی کا پیغام ہے بلکہ واشنگٹن کو بھی واضح اشارہ ہے کہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تاہم ساتھ ہی سفارتی کوششیں جاری ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتے۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔



