
(تازہ حالات رپورٹ )
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سربراہِ اعلیٰ جنرل امیر حاتمی نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی دشمن نے ایران پر حملے کی جسارت کی تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج اعلیٰ ترین سطح کی تیاری میں ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بیان ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران سامنے آیا، جس میں ایران کے وزیر خارجہ نے بری، بحری اور فضائی افواج کے سینئر کمانڈرز کو امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی اندرونی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گا اور ملک کی دفاعی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران کے پاس تقریباً دس لاکھ فعال اور ریزرو فوجی اہلکار موجود ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متحرک ہو سکتے ہیں۔ عسکری قیادت نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اگر امریکا یا کوئی اور طاقت طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اسی پر عائد ہو گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ایران کا یہ سخت اور واضح پیغام آئندہ سفارتی ملاقاتوں میں امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا، تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا غلط اندازے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ دفاعی طاقت کا مظاہرہ دراصل جنگ کو روکنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ اسے ہوا دینے کا۔
ایرانی عسکری حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر ازسرِنو کام کیا ہے۔ جدید عسکری ٹیکنالوجی، عملی تجربات اور مشترکہ مشقوں کی بنیاد پر افواج کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ان بیانات کے ذریعے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار کر رہا ہے بلکہ ممکنہ حملہ آوروں کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی قیمت بہت بھاری ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تہران کی یہ حکمتِ عملی دراصل باز deterrence یعنی طاقت کے ذریعے جنگ کو روکنے کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دشمن کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنا ہے، تاکہ خطے میں ایک بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔



