
اسرائیلی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک مذہبی یہودی طالب علم کو تین سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے مالی فائدے کے بدلے ایرانی خفیہ اداروں سے رابطہ رکھا اور انہیں مختلف نوعیت کی معلومات اور خدمات فراہم کیں۔
استغاثہ کے مطابق 21 سالہ ایلی میلخ اسٹرن، جو بیٹ شیمیش میں قائم ایک مذہبی مدرسے (یہشیوا) کا طالب علم تھا، ٹیلی گرام کے ذریعے ایک ایسے اکاؤنٹ سے رابطے میں رہا جسے ایرانی انٹیلی جنس سے منسلک بتایا گیا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق اسٹرن نے متعدد “ٹاسکس” انجام دینے پر رضامندی ظاہر کی اور بعض سرگرمیاں اسرائیل–ایران کشیدگی کے دوران انجام دیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس نے جنگی حالات میں ایران کی مدد کی، تاہم عدالت نے سزا سناتے وقت شواہد، اعترافات اور کیس کی نوعیت کو مدِنظر رکھا۔ ملزم کے وکلا کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے موکل نے سنگین ریاستی نقصان کا ارادہ نہیں رکھا، مگر عدالت نے قومی سلامتی سے متعلق خطرات کو بنیاد بنا کر سزا برقرار رکھی۔
اس کیس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی جاسوسی کے شبہے میں دیگر اسرائیلی شہریوں کے خلاف بھی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے خفیہ رابطوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیشِ نظر نگرانی اور قانونی کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرونی انٹیلی جنس نیٹ ورکس اکثر مالی ترغیبات کے ذریعے نوجوانوں کو ہدف بناتے ہیں، جبکہ حکومت نے شہریوں کو ایسے رابطوں سے دور رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔



