ایرانتازہ ترینمشرق وسطی

ایران، امریکا اور اسرائیل — مذاکرات، دباؤ اور طاقت کے مظاہرے کے درمیان نیا موڑ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں میں بھی تیزی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ بیانات، متوقع ملاقاتیں اور عسکری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ خطہ ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جبکہ امریکی جنگی جہاز ایران کے قریب تعینات ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا یہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان مذاکرات اور فوجی دباؤ کی متوازی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو عارضی طور پر معطل یا محدود کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے بدلے شرط رکھی گئی ہے کہ امریکا کی حمایت سے ایک علاقائی جوہری توانائی کنسورشیم قائم کیا جائے، جس کے تحت پرامن مقاصد کے لیے مشترکہ نیوکلیئر منصوبہ تشکیل دیا جائے۔ اسی تناظر میں ایرانی رہنما علی لاریجانی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایرانی قیادت کا پیغام پہنچایا ہے، جس میں 2015 کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا گیا کہ ایران اس سے قبل بھی یورینیم روس منتقل کر چکا ہے اور عالمی معائنہ نظام کو قبول کیا تھا۔

سفارتی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو ویٹکوف کے درمیان جمعے کو استنبول میں ملاقات متوقع ہے۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا میں مذاکرات کے خلاف مہم تیز ہو گئی ہے، جبکہ ایک طرف ایرانی عسکری حکام سخت بیانات دے رہے ہیں اور دوسری جانب امریکا بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ خطے کے دوست ممالک کی درخواست اور امریکا کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کے جواب میں وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ماحول دھمکیوں سے پاک ہو اور غیر حقیقی مطالبات نہ ہوں تو منصفانہ اور باعزت مذاکرات کی تیاری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف ایسے مذاکرات قبول کرے گا جو قومی مفاد، وقار اور حکمت کے اصولوں کے مطابق ہوں۔

ادھر عسکری محاذ پر اسرائیل اور امریکا کی بحری افواج نے بحرِ احمر میں مشترکہ فوجی مشقیں کیں، جنہیں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق اسرائیل نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو سخت شرائط پر لایا جائے، جبکہ اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اسرائیل کی مرضی کے بغیر ایران سے مذاکرات نہیں کر سکتا۔

ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی دوٹوک مؤقف سامنے آیا ہے۔ ایرانی رہنما علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران اپنے یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے ملک منتقل نہیں کرے گا اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ملک ہر طرح سے تیار ہے۔

علاقائی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایمن الصفدی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر رابطہ کر کے خطے کی نازک صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کا حل سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے، نہ کہ تصادم میں۔ اردن نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی علاقائی جنگ یا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔

مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور عسکری دباؤ ایک ساتھ جاری ہیں، اور آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ کشیدگی میں مزید اضافے کی طرف جاتا ہے یا کسی سفارتی پیش رفت کی جانب۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button