
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی فوجی حکام کے مطابق ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کے ویپن سسٹمز آفیسر (WSO) کو دشمن کے خطرناک علاقے سے کامیابی کے ساتھ نکال لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ اہلکار نے ہنگامی صورت حال میں جہاز سے ایجیکٹ کیا تھا اور وہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے میں جا کر چھپ گیا تھا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق وہ مقام اس جگہ سے تقریباً پانچ میل شمال مغرب میں تھا جہاں بعد میں ریسکیو ٹیم نے عارضی لینڈنگ زون قائم کیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی فورسز نے نہایت محدود وسائل اور مشکل زمینی حالات کے باوجود ایک عارضی رن وے تیار کیا، جہاں دو C-130 طیارے اور چار MH-6 "لٹل برڈ” ہیلی کاپٹرز اتارے گئے۔ ایک ہیلی کاپٹر نے انتہائی مہارت کے ساتھ پہاڑی چوٹی کے قریب پرواز کرتے ہوئے پھنسے ہوئے اہلکار کو ریسکیو کیا اور اسے محفوظ مقام تک منتقل کیا۔

تاہم آپریشن کے دوران غیر متوقع مشکلات بھی سامنے آئیں۔ لینڈنگ کے بعد دونوں C-130 طیاروں کے اگلے پہیے نرم مٹی میں دھنس گئے، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود جب طیارے نکالنا ممکن نہ رہا تو اضافی فضائی وسائل طلب کیے گئے۔
بعد ازاں امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ نے تین Dash-8 طیارے روانہ کیے، جن کے ذریعے نہ صرف ریسکیو کیے گئے اہلکار کو محفوظ مقام منتقل کیا گیا بلکہ آپریشن میں شامل تقریباً 100 فوجی اہلکاروں کو بھی وہاں سے نکال لیا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آپریشن امریکی فوج کی تیز رفتار ردعمل، فضائی مہارت اور مشکل حالات میں کام کرنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ ایسے مشنز میں وقت، درست معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور اس کارروائی نے ان تمام عناصر کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگی حالات میں ریسکیو آپریشنز کس قدر پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں، جہاں ایک چھوٹی سی تکنیکی یا جغرافیائی رکاوٹ پورے مشن کو متاثر کر سکتی ہے، مگر بروقت حکمت عملی اور مربوط ٹیم ورک کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔



