
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مسافر اور کارگو طیاروں کی غیر معمولی نقل و حرکت سامنے آئی ہے۔ اوپن سورس فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق صرف دو دنوں میں 19 مسافر اور کارگو طیاروں کو بحرین سے دوسرے ممالک منتقل کیا گیا۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس Flightradar24 اور ADS-B Exchange کے ڈیٹا کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ پروازیں 10 اور 11 مارچ کو بحرین ایئرپورٹ سے روانہ ہوئیں۔ تجزیے کے مطابق ان میں 12 مسافر طیارے شامل تھے، جن میں سے 11 بحرین کی قومی ایئرلائن گلف ایئر کے تھے۔ یہ تعداد گلف ایئر کے کل بیڑے کا تقریباً 25 فیصد بنتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان میں سے 10 طیاروں کو سعودی عرب کے العلا ایئرپورٹ منتقل کیا گیا، جبکہ ایک طیارہ بھارت کے بنگلورو ایئرپورٹ گیا۔ اسی طرح ایک طیارہ، جو ایئر انڈیا ایکسپریس کا تھا، بھی بھارت کے لیے روانہ ہوا۔
کارگو طیاروں کی بھی منتقلی
اسی دوران 7 کارگو طیاروں کی بھی منتقلی ریکارڈ کی گئی۔ ان میں سے 4 طیارے جرمن کمپنی DHL کے تھے جبکہ ایک طیارہ ایرولوجک (Aerologic) کا تھا، جو جرمنی کی جانب روانہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بحرین کی کمپنی ٹیکسل ایئر (Texel Air) کے دو کارگو طیارے عمان منتقل کیے گئے۔

تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نقل و حرکت مرحلہ وار ہوئی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے ساتھ اس کا تعلق دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فروری کے آخر میں بھی بحرین سے یورپ اور ایشیا جانے والی کچھ پروازوں کی واپسی منسوخ کر دی گئی تھی۔
گلف ایئر اور حکام کا مؤقف
بحرین کی قومی ایئرلائن گلف ایئر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طیاروں کی یہ منتقلی عارضی نوعیت کی ہے اور اسے کمپنی کے آپریشنل منصوبے کے تحت کیا گیا ہے تاکہ فضائی بیڑے کی کارکردگی برقرار رکھی جا سکے اور آئندہ پروازوں کے لیے بہتر تیاری کی جا سکے۔
بحرین کی وزارت ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبہ شہری ہوا بازی نے بھی اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خالی طیاروں اور کارگو جہازوں کو دیگر ایئرپورٹس منتقل کرنا ایک منظور شدہ آپریشنل انتظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد فضائی بیڑے کی تیاری کو بہتر بنانا اور مستقبل کی پروازوں کی ضروریات پوری کرنا ہے۔



