امریکاتازہ ترین

شامی کردوں کی ایرانی کردوں کو تنبیہ، امریکہ کے ساتھ اتحاد سے محتاط رہنے کا مشورہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران شام کے کرد رہنماؤں نے ایران کے کرد گروہوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے سے پہلے محتاط رہیں۔ شامی کردوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں واشنگٹن کے ساتھ ان کے اپنے تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے اتحاد طویل مدت میں غیر یقینی ثابت ہو سکتے ہیں۔

شام کے شمال مشرقی علاقے قامشلی میں مقامی کرد نمائندوں اور کارکنوں نے کہا کہ ایران کے کرد گروہوں کو چاہیے کہ وہ خطے کی پیچیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ان کے مطابق شام میں امریکی حمایت کے ساتھ ہونے والے تعاون کے بعد بعض مواقع پر حالات ایسے پیدا ہوئے جب کرد فورسز کو خود ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران کے کرد گروہوں سے رابطے

رپورٹس کے مطابق شمالی عراق میں موجود ایرانی کرد ملیشیاؤں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ ان بات چیت میں یہ موضوع زیرِ بحث آیا کہ آیا ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کی جائے یا نہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

شامی کردوں کا تجربہ

شامی کرد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ لڑی، لیکن بعد میں علاقائی سیاسی تبدیلیوں اور سفارتی فیصلوں کے باعث انہیں بعض مواقع پر خود کو تنہا محسوس کرنا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی تجربے کی بنیاد پر وہ ایران کے کرد گروہوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کے ساتھ عسکری تعاون کرتے وقت مستقبل کے ممکنہ نتائج کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔

علاقائی سیاست کا پیچیدہ منظرنامہ

ماہرین کے مطابق ایران میں کرد اقلیت ایک طویل عرصے سے سیاسی اور سکیورٹی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ بعض کرد گروہ ایران کے مغربی علاقوں میں سرگرم ہیں اور بعض ہمسایہ ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے کرد گروہ امریکہ کے ساتھ کھل کر تعاون کرتے ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ایران کے اندر سکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

سفارتی کوششیں جاری

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے بھی حالیہ مہینوں میں شامی کرد فورسز کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ شام کی سرکاری فوج کے ساتھ انضمام کے حوالے سے بات چیت کریں تاکہ ملک میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کرد گروہوں کے فیصلے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست اور سکیورٹی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button